Tanhai

بچپن میں جب ہم سردیا ں گاؤں میں گزارتے تو اکثر رات کو محفل سجتی۔ کیا بڑے اور کیا چھوٹے سب لوگ آگ والی کوٹھی میں جمع ہو جاتے۔ آگ جلا دی  جاتی اورسب حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے ۔ پھر باتیں شروع ہوتیں۔ پرانے قصے ،کہانیاں ،گئی گزری باتیں، بڑوں کا بچپن اور ماضی غرض ہر چیز پر بات ہوتی۔ اس گپ،شپ میں نجانے گاؤں کے کتنے زندہ اور مردہ لوگوں کو یاد کیا جاتا۔ یوں محسوس ہوتا جیسے کمرے میں صرف ہم ہی نھیں بلکہ وہ بھی موجود ہوں جن کا ذکر کیا جا رہا ہو۔ ایسے میں جب گرم کمرے سےباہر رات کے اندھیرے میں نکلنا پڑتا تو عجیب ہو کا عالم اور خاموشی مجھے گھیر لیتی۔اندھیرے میں دل پر عجیب دہشت طاری ہو جاتی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے آگ والی کوٹھی میں زندگی ہو اور جیسے جیسے میں کمرے سے دور ہوتا جا رہا ہوں میرے اندر سے زندگی کی شمع بجھتی چلی جا رہی ہو۔
آج میں جب بچپن کی ان یادوں  کے بارے میں  سوچتا ہوں تو  یہ خیال میرے دل کو گھیر لیتا ہےکہ  ہماری اس چھوٹی سی زمین پہ بسی دنیا کی مثا ل بھی اس آگ والے کمرے کی سی ہے جس میں آگ کے گرد طرح طرح کے قصوں سے محفل گرم ہو اور یہ کا ئنات اس کالی سیا ہ چپ اندھیری رات کی طرح ہے جو کمرے کے باہر زلفیں پھیلا ئےہوئے ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ ہم اس دنیا میں کتنے اکیلے ہیں۔ بعض لوگ کہیں گے کہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے علاوہ بھی کوئی اور مخلوق اس خلا میں موجود ہو۔ اگر کوئی مخلوق موجود ہے بھی تو وہ اتنی دور ہے کہ اس کی بازگشت بھی ہم تک نہیں پہنچ پاتی۔


Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.

Advertisements

A comment to encourage us?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s