Darwazey

کل رات میں مسجد میں عشا کی نماز پڑھ رہا تھا۔ کمرے میں کچھ حبس محسوس ہو رہی تھی۔ محراب کے ساتھ والا دروازہ کسی نے کھولا تو خوشگوار ٹھنڈی ہوا نے میرے پورے وجود کو سرشار کر دیا۔ نماز میں بھی خشوع کی کیفیت پیدا ہو گئی اور یوں محسوس ہونے لگا جیسے میری پوری روح نورانیت سے بالیدہ ہو گئی ہو۔

نماز سے جب میں فارغ ہوا تو سوچنے لگا کہ قبر میں بھی ایک دن ہم کو جانا ہے اور وہاں کی حبس اورتنگی اس دنیا کی حبس اورتنگی سے کہیں زیادہ ہو گی۔ جب وہاں جنت کا دروازہ کسی خوش بخت کے لیے کھولا جائے گا اور جنت کی ہواؤں کا ایک جھونکا استقبال کرنے کے لیے سامنے آئے گا تو کیسا محسوس ہو گا۔ اسکے برعکس جب جہنم کا دروازہ کسی بد بخت مردے پرکھولا جائے گا تو کتنا شدیدغم اور مایوسی ہوگی۔

یہ جہنم اور جنت کے دروازے جو عالمِ برزخ میں ہماری روح کے پہنچنے کے منتظر ہیں انہیں توبہ کے دروازے سے، جو آخری سانس تک ہر انسان پر کھلا ہے برا گہرا تعلق ہے، لیکن توبہ کا دروازہ کھلا ہے اسکا کس کو احساس ہے۔ اس دنیا میں اور بے شمار دروازے ہیں جن پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔۔۔یہ خوشنما، پراسرار، دل کو موہ لینے والے دروازے۔۔۔ جو انکی حقیقت سے واقف ہیں وہ دوسروں سے کہتے ہیں کہ ان دروازوں کے پیچھے کچھ نہیں۔ مگر انکی بات کون سنتا ہے؟

ہر آدمی جب ہوش کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو بے شمار دروازے اسکا استقبال کرنے کےلیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی اس دنیا کی خوبصورتی ہے اور یہی اس دنیا کا امتحان۔ انسان چاہتا ہے کے بے شمار دروازے ہوں مگر اس دنیا میں دروازے محدود ہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ ہر خوبصورت نظر آنے والے دروازے کے اندر بھی حسن ہی جلوہ گر ہومگر اس دنیا میں معاملہ بڑا گھمبیر ہے۔ دل کے دروازے سے ایک جادوگر دل میں داخل ہوتا ہے اور چیزوں کی حقیقت اپنی مرضی کے مطابق بدل دیتا ہے۔ مگر کون کسی کو سمجھائے کہ اس دل کے دروازے پر پہرہ بٹھاؤ۔ اور اگر کوئی دل پر پہرہ بٹھائے بھی تو کیسے کہ دل کے دروازے کی حفاظت کے لیے آنکھوں اور کانوں کے دو دو دروازوں کی حفاظت بھی لازمی ہے۔ یہ ساری صورتِ حال دیکھ کر اکثر لوگ تنگ آ جاتے ہیں اور اپنے آپ پر مایوسی کا دروازاہ کھول لیتے ہیں۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ مایوسی کا دروازہ بھول بھلیوں سے گزار کر انسان کو جہنم کے دروازے پر اس دنیا میں ہی لا کھڑا کرتا ہے، جہاں جہنم کے خوفناک دروازے کو کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ انسان کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے اوپر امید کے دروازے کو کھلا رکھے کیونکہ امید کا دروازہ جنت کے دروازے سے بہت قریب ہے، مگر اس منظر بدلتی دنیا میں اکثر لوگ خوشنما دروازوں کے پیچھے چھپی وحشت دیکھ دیکھ کر مایوسی کا دروازہ کھولنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان دروازوں کی اصل حقیقت کیسے جانی جائے؟

اس کے لیے سیانے لوگوں نے ایک بڑی اچھی تدبیر بتائی ہے۔ ہماری نظروں کے بالکل سامنے ہر وقت ایک دروازہ ہوتا ہے۔ یہ دروازہ کبھی بھی زاویہ نظر سے اوجھل نہیں ہوتا۔ اس دروازے کی خاص بات یہ ہے کہ اسکے بارے میں کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ اس سے دور ہے یا قریب۔ بس یونہی چلتے چلتے یہ دروازہ یک دم قریب آجاتا ہے اور انسان اس میں داخل ہوتا ہے اور اسے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ یہ واحد دروازہ ہے جس میں داخل ہونے والا کبھی لوٹ کر واپس نہیں آیا۔ اکثر لوگ سفر کی ابتدا میں کسی اور کو اس دروازے میں داخل ہوتا ہوا دیکھتے ہیں اور رفتہ رفتہ اسے معمول سمجھ کر نظر اندازکر دیتے ہیں۔ مگر سیانے لوگ کہتے ہیں کہ اس دروازے کو اگر ہر وقت نظروں میں رکھا جائے تو پھر کوئی دروازہ دھوکہ نہیں دیتا اور زندگی بڑے آرام سے گزر جاتی ہے۔ یہ دروازہ بہت پراسرار دروازہ ہے اور اسکے پیچھے کیا ہے کسی کو معلوم نہیں۔

یہ دروازہ موت کا دروازہے۔


مصنف: محمد علی حافظ

Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.

Advertisements

A comment to encourage us?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s