Aik Khyal

مضامین دل میں آتے ہیں، ایک خوشگوار جھونکے کی طرح۔ دل ِ بے تاب انکے آنے سے جھوم اٹھتا ہے  اور ہر طرف بہار ہی بہار نظر آنے لگتی ہے۔مگر شاید یہ لمحے بہار ہی کی طرح بہت مختصر ہوتے ہیں کہ ان کا گمان بھی دل سے وقت کی گرد،  دور اڑا لے جاتی ہے اور قلم کے پاس خاک کی طرح بے مصرف مضامین کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ مگر یہ خاک بھی تو اتنی بے مصرف نہیں۔ خاک سے گارا بنتا ہے اور گھر تعمیر ہوتے ہیں۔اسی خاک میں سونے اور چاندی کے ذرات ہوتے ہیں اور اسی خاک سے انسان کا خمیر اٹھا ہے۔

میرے ذہن میں منتشر مضا مین  بھی شاید اسی خاک کی مانند ایک تعمیر کے لیے گارے کا کام دے رہے ہیں۔ یا شاید ان میں ہیرے ، موتی جیسے قیمتی مضامین چھپے ہیں جو میرے قلم کے چلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔  یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے کسی ایسے نظریے کا خمیر اٹھے جو انسان کے وجود کی طرح اشرف اور اعلیٰ ہو۔ اسی لیے  شاید میرا قلم چلتا رہتا ہے اور میں لکھتا رہتا ہوں۔

کبھی تخیل پرواز کرتا ہے تو مضمون فلسفے ، تصوف اور مابعداطبیعات کی گہرائیوں کو چھونے لگتا ہے۔حکمت کی باتیں موتیوں کی طرح پروئی ہوئی الفاظ کی صورت میں ڈھلنے لگتی ہیں۔ اورکبھی اسی قلم پر عقل ودانش اور خیال۔۔۔سبھی قفل باندھ دیتے ہیں اور باوجود کوشش کے کسی باربط تحریر پر بھی ،قلم چلنے سے قاصر رہتا ہے۔


مصنف: محمد علی حافظ

Photo credit: You Decided To Walk Away via Photopin (License)

Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.

Advertisements

A comment to encourage us?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s