Maqsad-e-Zindagi

میں اکثر سوچتا ہوں کہ میں کون ہوں، کہاں ہوں اور کیوں ہوں اور کیوں پیدا کیا گیا ہوں؟ کیا میری زندگی کا کوئی مقصد ہے یا میں یونہی ایک ہوا کے جھونکے کی طرح اس دنیا کے گھر میں وجود کی کھڑکی سے آیا ہوں اور عدم کی کھڑکی سے چلا جاؤں گا؟
میرے خیال میں یہ زندگی اتنی بے مصرف نہیں اور نہ ہی انسان کو بے مقصد اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
اگر زندگی اتنی ہی بے مصرف ہوتی تو سب انسان بے مصرف رہنا پسند کرتےمگر یہاں معاملہ الٹ ہے ۔ ہر کوئی کسی نہ کسی دھن میں مگن ہے۔اگر ہاتھ پاؤں بے مصرف ہیں بھی ، تو ذہن طرح طرح کی منصوبہ بندیوں میں مصروف ہےاور دل میں خواہشوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔تبدیلی کا سلسلسہ جو اس زندگی کا جزوِ لازم ہے قدرت نے انسان کی اسی جبلت کو دیکھتے ہوئےپیدا کیا ہے۔ جب دل میں تبدیلی کی خواہش ختم ہوجاتی ہے یہ دنیا ، یہ زندگی حتیٰ کہ اپنا آپ بھی ہمیں بے رنگ سالگنے لگتا ہے۔ یہی وہ حالت ہے جو مایوسی ،ناامیدی اور یاس کہلاتی ہےاور یہیں سے انسان خودکشی جیسے عمل پر مائل ہوتا ہے۔ اسی لیے میں زندگی میں کسی نہ کسی بڑے مقصد کولازم سمجھاتا ہوں تاکہ زندگی لمحہ بہ لمحہ کسی سمت میں چلتی رہے اور اسے قرار نہ آئےکیونکہ قرار زندگی کے لیے موت ہے۔


مصنف: محمد علی حافظ

Photo credit: Approaching Monument Valley on Highway 163, Utah via Photopin (License)

Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.

Advertisements

A comment to encourage us?

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s